ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ولکی جماعت المسلمین کےصدر کے انتقال پر مختلف اداروں کی جانب سے تعزیتی اجلاس؛ بھٹکل تنظیم نے کہا؛ مرحوم ولکی جماعت کے اہم ستون تھے

ولکی جماعت المسلمین کےصدر کے انتقال پر مختلف اداروں کی جانب سے تعزیتی اجلاس؛ بھٹکل تنظیم نے کہا؛ مرحوم ولکی جماعت کے اہم ستون تھے

Wed, 18 Nov 2020 11:39:09    S.O. News Service

بھٹکل 18 نومبر (ایس او نیوز) پڑوسی  تعلقہ ہوناور کے ولکی  میں جماعت المسلمین ولکی کے صدر  سدی باپا محمد میراں المعروف  پٹیل سائب بھاو کے انتقال پر ولکی میں مختلف اداروں کی جانب سے تعزیتی اجلاس کا سلسلہ جاری ہے جس میں  مرحوم کے اوصاف بیان کرتے ہوئے گھر والوں سے تعزیت کی جارہی ہے اور  ان کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا جارہا ہے۔ 

جناب سدی باپا میراں صاحب گذشتہ جمعہ کو بعد نماز جمعہ انتقال کرگئے تھے، ان کی عمر 70 سال تھی۔ موصوف کو سات لڑکے اور ایک دُختر ہیں۔ سرگرم سماجی کارکن، ولکی ہائی اسکول اور مسجد تعمیری کمیٹی کے  اہم ذمہ دار سمیت جامعہ سیدنا عمر فاروق ومدرسہ فاطمۃ الزھرا کے نائب ناظم جناب میراں صاحب گذشتہ پانچ سالوں سے جماعت المسلمین ولکی کے صدر تھے۔ سنیچر کو ولکی میں ہی تدفین عمل میں آئی جس کے موقع پر سینکڑوں لوگ جنازے میں شریک تھے۔  بھٹکل سے قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے  جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی، سرگرم رکن عنایت اللہ شاہ بندری  و دیگر لوگ بھی  ان کے انتقال پر جنازے میں شریک ہوئے تھے اور اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت کی تھی۔

جناب میراں صاحب کے انتقال پر سنیچر کو جماعت المسلمین ولکی کی  طرف سے ولکی جامع مسجد میں تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا تو اگلے دن  ولکی اتحاد پبلک اسکول کی طرف سے بھی اسکول میں تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا، بتایا گیا ہے کہ  اگلے دو دنوں میں  مدرسہ فاطمۃ الزھرا میں بھی تعزیتی جلسہ منعقد کیا جارہا ہے۔

ولکی سے  مختار احمد فخرو نے  جامع مسجد  ولکی میں منعقدہ تعزیتی جلسہ کی رپورٹ روانہ کی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ  جماعت المسلمین ولکی کے نائب صدر جناب مُلا خالد کی صدارت میں مورخہ 14 نومبر کو  تعزیتی جلسہ منعقد ہوا جس میں قصبہ کے سرکردہ افراد نے مرحوم صدر کی زندگی کے مختلف گوشوں کا اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ ذمہ داران نے ان کی ناگہانی موت  کو  پوری قوم کا خسارہ قرار دیا، جنہوں نے  ایک  مرد قلندر کو کھودیا ہے، ان کی موت سے ولکی میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوا ہے جسے پُر کرنا اہل ولکی کے لئے تقریبا محال نظر آرہا ہے، اجلاس میں  ان کے لیے لکھا ہوا مرسیہ بھی مدرسہ کے طلباء نے اپنی سریلی و دلکش آواز میں سنا کر سامعین کو محو حیرت کیا، چونکہ اس وقت تقریبا پوری قوم افسردہ اور سکتہ میں ہے، ایک دوسرے کو ہمت و صبر کی تلقین اور اللہ کے فیصلہ پر راضی رہنے کے ترغیبات پر عمل  کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

جناب مختار احمد فخرو کے مطابق  مرحوم میراں صاحب سادگی و متانت کی ایک زندہ مثال تھے،  جانے والے تو چلے گئے مگر موصوف جن اوصاف و کمالات کے مالک تھے،اس کے نقوش تا دیر باقی رہیں گے، انسان کی اس دار فانی سے رخصتی یقینی   ہے،اور مالک ارض وسماء کی  مرضی کے سامنے انسان بے بس ہے،مگر اس طرح کےنقوش چھوڑنا  یقینا خدمت خلق اور اس  جذبے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے، مختار صاحب نے اپنے تعزیتی پیغام میں  مرحوم محمد میراں صاحب کے لئے  مغفرت  کی دعائیں کی ہیں اور ان کے  درجات  کو بلند کرنے اور متعلقین  کو صبر جمیل  عطا فرمانے کی دعائیں کیں ہیں۔

جناب میراں صاحب کے انتقال پر ولکی سے مولوی فیاض ندوی نے  بتایا کہ ولکی کے عوام ایک اہم سرپرست سے محروم ہوگئے ہیں، مرحوم ولکی میں سماجی کاموں میں بے حد متحرک اور فعال تھے،  مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلمانوں میں  بھی معروف تھے، ان کے انتقال پر پورے ولکی کے عوام رنج و غم میں مبتلا ہوگئے۔  اسی طرح جناب  اسلم شیخ نے  ان کی موت کو قوم کا خسارہ قرار دیتے ہوئے مرحوم کے حق میں مغفرت کی دعا کی۔ولکی کے صدر کی موت پر بھٹکل تنظیم کے ذمہ داران نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری جناب عبدالرقیب ایم جے ندوی نے  بتایا کہ جناب میراں صاحب کے انتقال  کی اطلاع موصول ہوتے ہی تنظیم کا ایک وفد ولکی پہنچا اور جنازے میں شریک ہوتے ہوئے گھروالوں کے ساتھ ساتھ  ولکی کے ذمہ داران سے بھی تعزیت کی۔ تنظیم صدر ایس ایم پرویز،  جماعت المسلمین بھٹکل کے صدر محتشم جان عبدالرحمن،  عبدالسمیع کولا،   مولوی عبدالعلیم قاسمی،  مولوی ارشاد  افریقہ ندوی، مصطفیٰ تابش خلیفہ،  اسماعیل محتشم وغیرہ نے بھی  مرحوم کے گھرپہنچ کر اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی اور انہیں صبر کرنے کی تلقین کرتے ہوئے مغفرت کے لئے دعا کیں۔

جناب عبدالرقیب ایم جے ندوی نے مرحوم میراں صاحب کو ولکی جماعت کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ  وہ نہایت کم گو مگر کام کرنے میں زیادہ متحرک رہتے تھے، ایک مدت سے ولکی میں خاموشی کے ساتھ  قومی وملی خدمات میں  مصروف تھے، باتیں کم اور کام زیادہ کرنے کے لئے جانے جاتے تھے۔  اللہ اُنہیں غریق رحمت کرے اور ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔ اٰمین


Share: